ڈاکٹر صفدر محمود-چشم تماشا(امجد اسلام امجد)

Chasham E Tamasha was a famous column series written by Amjad Islam Amjad in Express News.

ڈاکٹر صفدر محمود

آپ ذہنی طور پر کتنے ہی تیار کیوں نہ ہوں کسی عزیز دوست یا پرانے رفیق کی رحلت کی خبر آپ کو ایک دفعہ اندر باہر سے ہلا ضرور دیتی ہے کچھ ایسا ہی معاملہ ڈاکٹر صفدر محمود کے ضمن میں ہوا کہ اگرچہ مرحوم اور اُن کی تحریروں کے ساتھ تعارف کی عمر تو نصف صدی سے بھی کچھ زیادہ تھی مگر گزشتہ تین دہائیوں میں یہ رشتہ ایک مضبوط، مسلسل اور پائیدار دوستی کی شکل میں ڈھل چکا تھا اُن کا مضمون پولیٹیکل سائنس اور پیشہ تدریس اور بیوروکریسی رہا لیکن ادب سے تعلق اور تاریخِ پاکستان سے گہرا شغف ہمارے درمیان ایک ایسے پُل کی شکل اختیار کرگیا کہ صورتِ حال کچھ کچھ ”خبر تحیّر عشق سن“ والی ہوگئی اور اُن سے محبت اور اپنائیت کا رشتہ ایک اہم اثاثے کی شکل اختیار کرتا چلا گیا۔

 
اُن کا آبائی تعلق کھاریاں کے ایک نواحی قصبے ”ڈنگہ“ سے تھا پنجابی میں ڈنگا کا لفظ ٹیڑھے کی معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے اس لئے تفننِ طبع کے طور پر احباب اُن سے اکثر یہ سوال بھی کرتے تھے کہ آپ جیسے شریف اور سیدھے آدمی کا ”ڈنگہ“ میں پیدا کیا جانا اپنی جگہ پر صنعتِ تضاد کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے وہ اُن منتخب لوگوں میں سے تھے جنہیں اپنی علمیت جھاڑنے کا سرے سے کوئی شوق نہیں ہوتا مگر وہ اُن کی تحریر و تقریر سے ہمہ وقت اپنی وسعت اور گہرائی کا احساس دلاتی رہتی ہے انہیں بجا طور پر یہ گِلہ تھا کہ شعر و ادب کی درمیانے درجے کی کتابوں کو اول نمبر کے علم و تحقیق کی حامل کتابوں سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ا ور سنجیدگی سے تنقید و تحقیق کرنے والوں کو وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ صحیح معنوں میں حقدار ہوتے ہیں اور دیگر ممالک کے برعکس قومی اعزازات کی تقسیم کے وقت بھی انہیں عام طور پر نظر انداز کردیا جاتاہے پاکستان کی تاریخ اور تحریک پر مقدار اور معیار دونوں اعتبار سے دیکھا جائے تو یقینا ان کا کام اعلیٰ ترین اعزازات کا مستحق تھا آج کل کی بیشتر عدلیہ کے برخلاف وہ اُن مثالی ججوں کی طرح تھے جو زبان کے بجائے اپنے فیصلوں کی معرفت بات کیا کرتے تھے میں نے انہیں زندگی بھر بہت کم بولتے اور بحث کرتے سنا ہے مگر اُن کی ہر کتاب اس بات کی شاہد ہے کہ

خشک سیروں تنِ شاعر کا لہو ہوتا ہے
تب نظر آتی ہے اک مصرعہٗ تر کی صُورت

تاریخ تو ان کا مضمون تھا ہی مگر وہ ادب کے بہت سنجیدہ اور عمدہ قاری تھے اُن کی اپنی نثر بھی بہت رواں دواں اور ہموار ہوا کرتی تھی اور وہ اُن چند محققین میں سے تھے جن کے اخباری کالم بھی بہت شوق اورتوجہ سے پڑھے جاتے تھے ریٹائرمنٹ کے بعد چند سال قبل وہ بھی ڈیفنس کے اُسی سیکٹر میں مستقل طور پر رہائش پذیر ہوئے جہاں میں پہلے سے مقیم تھا لیکن اُن سے زیادہ تر ملاقات جمعے کی نماز کے وقت مسجد میں ہی ہوا کرتی تھی کہ وہ اس عمر میں بھی اپنا زیادہ وقت لکھنے اور پڑھنے میں صرف کرتے تھے ایک دن اچانک خبر ملی کہ وہ اپنی بیگم کے ہمراہ امریکہ اپنے بچوں کے پاس جارہے ہیں کچھ عرصہ بعد میری بیگم نے جو اُن کی بیگم کی سہیلی بھی ہیں بتایا کہ وہ بغرضِ علاج امریکہ ہی میں رک گئے ہیں جبکہ ان کی بیگم واپس آگئی ہیں اس سارے عرصے کے دوران میں یہی سمجھتا رہا کہ ان کی اس علالت کا تعلق عمر سے ہے اور جلد اُن سے ملاقات ہوجائے گی پھر امریکہ سے کسی دوست نے بتایا کہ نہ صرف وہ بہت زیادہ بیمار ہیں بلکہ ان کی یاداشت بھی تقریبا ختم ہوچکی ہے جس سے رنج میں مزید اضافہ ہوا چند ماہ قبل اِ سی حالت میں اُن کو واپس وطن لایا گیا جہاں وہ اسی ذہنی گمشدگی کے دوران خاموشی سے رخصت ہوگئے کیسی عجیب بات ہے کہ جس شخص کی یادداشت اپنی جگہ تاریخ کا ایک معتبر حوالہ ہو اُسے اپنا نام تک یاد نہ رہے۔ میرے نزدیک ڈاکٹر صفدر محمود ہمارے دورکے ایک بہت نامور تاریخ دان، مصنف اور تجزیہ کار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت مہذب، قابلِ فخر اور قیمتی انسان بھی تھے جن کی رحلت ہمارے معاشرے کو غریب تر اور مجھے ایک پیارے دوست سے محروم کرگئی ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران صحافی عبدالرحیم یوسف زئی، چلڈرن کمپلیکس کے ملازمت کے زمانے کی رفیق ڈاکٹر فائزہ اصغراوراردو اور پشتو کی مشہور ادیبہ زیتون بانو کے علاوہ اور ایک اور بہت اچھے ہم عصر لکھاری طارق اسماعیل ساگر بھی داغِ مفارقت دے گئے ہیں رب کریم ان سب کی روحوں کو اپنی امان میں رکھے ان کی کوتاہیوں اور لغزشوں کو معاف فرمائے اور انہیں بلند درجات عطا فرمائے۔ طارق بھائی سے میری ذاتی اور براہ راست ملاقات تو زیادہ نہیں تھی مگر نہ صرف میں اُن کے کام سے ہمیشہ آگاہ رہنے کی کوشش کرتا تھا بلکہ برادرم شہزاد رفیق کی فلم ”سلاخیں“ کے مکالمے لکھنے کے دور ان اُن سے ایک غائبانہ سی قربت بھی رہی اُن کی رحلت پر بہت سے احباب نے فیس بک وغیرہ پر تعزیت کے پھول بھیجے ہیں مگر مجھے سب سے زیادہ شہزاد رفیق ہی کی ایک مختصر تحریر نے متاثر کیا ہے جس کا عنوان انہیوں نے ”خشک پتوں کی طرح لوگ اُڑتے جاتے ہیں“ رکھا ہے وہ لکھتے ہیں۔

الوداع طارق اسماعیل ساگر صاحب الوداع، آپ کا ناول”میں ایک جاسوس تھا“ ایف ایس سی میں تھا جب میں نے پڑھا آپ سے تعارف و تعلق کا سبب یہ ناول تھا اور محبت شفقت اور احترام کا رشتہ قائم ہو اجس پر مجھے ناز ہے آپ ایک خاموش مجاہد تھے آپ کے جسم پر پڑے ہوئے زخموں کے نشانات کی پوری قوم مقروض ہے اور رہے گی، سیکنڈلیفٹینٹ سے لے کر جنرل تک سب نے کاکول اکیڈمی جانے سے پہلے آپ کے ناول ضرور پڑھے ہوں گے مرحوم کی خدمات حساّس اداروں سے ڈھکی چھپی نہیں۔۔۔میری فلم ”سلاخیں“ کی کہانی سکرین پلے طارق صاحب کے زورِ قلم کا نتیجہ ہے اور ”سلیوٹ“ کے ریسرچ ورک کا کریڈٹ بھی آپ کا ہے۔ بیماری سے پہلے ایک سکرپٹ پر کام کررہے تھے شائد قدرت کو منظور نہ تھا۔سر آپ کو سلیوٹ۔“

آخر میں ایک سلیوٹ ڈاکٹرصفدر محمود کے لئے بھی کہ میرے نزدیک تحریک وتاریخ پاکستان کا کوئی مطالعہ اُن کی کتابوں کو پڑھے بغیر ممکن اور مکمل نہیں ہوسکتا ایک شعر جو ان کی زندگی میں انہیں سنانے کا موقع نہ مل سکا اُسی پر اسی تعزیتی کالم کا اختتام کرتا ہو ں یقینا وہ اسے سن کر اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے کہ اُن کے داد دینے کا طریقہ یہی تھا۔

سرِ عام کھول کے رکھ دیئے جو بھی واقعے تھے چُھپے ہوئے
نہیں وقت سا کوئی صاف گو بڑی بدلحاظ ہے ہسٹری

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *